جنونِ عشق
قسط 5: پہلی میٹنگ اور بدلے کی شروعات
صبح کے نو بج رہے تھے۔ شاہ گروپ آف انڈسٹریز کا مین کانفرنس ہال بورڈ میٹنگ کے لیے بالکل تیار تھا۔ حورین اپنے ہاتھ میں تمام اہم فائلیں سنبھالے زیان شاہ کے پیچھے خاموشی سے چل رہی تھی۔
زیان کا ہر قدم اس کے بااعتماد اور ڈسپلنڈ مزاج کا ثبوت تھا، جبکہ حورین کی نظریں اس کی ہر حرکت پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ شاہ خاندان کی ہر کمزوری اور طاقت کو باریکی سے نوٹس کر رہی تھی۔
"مس حورین... میٹنگ کی تمام پریزنٹیشنز ریڈی ہیں؟" زیان نے بنا پیچھے مڑے، اپنی روبدار آواز میں پوچھا۔
"جی سر! سب کچھ آپ کی ہدایات کے مطابق تیار ہے،" حورین نے بے حد پیشہ ورانہ انداز میں جواب دیا۔
زیان نے ایک لمحے کے لیے قدم روکے اور مڑ کر حورین کی آنکھوں میں دیکھا۔ اس کی سرمئی آنکھوں میں اک تپش تھی جیسے وہ حورین کے اس پرسکون چہرے کے پیچھے چھپے طوفان کو پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
"یاد رکھنا حورین... میرے کام میں ایک سیکنڈ کی بھی غلطی مجھے برداشت نہیں ہوتی،" زیان نے اس کے قریب جھک کر دھیمے لیکن سرد لہجے میں کہا۔
"اور مجھے اپنی ذمہ داریوں میں کوئی ناہلی پسند نہیں سر... آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا،" حورین نے بھی اتنے ہی پرسکون اور چیلنجنگ انداز میں جواب دیا۔
❖ ❖ ❖
دوسری طرف، کیفے ٹیریا کے واقعے کے بعد انعم اپنے ڈیسک پر بیٹھی غصے سے فائل کے صفحات پلٹ رہی تھی۔ کافی کا داغ اگرچہ دھو لیا گیا تھا، لیکن اس کی انا پر لگا داغ ابھی تک تازہ تھا!
اچانک اس کی ٹیبل پر ایک چمکتا ہوا کلاسک کپ اور ساتھ ایک ٹشو پیپر آ کر رکھا گیا۔
انعم نے چونک کر اوپر دیکھا۔ سامنے شاویز شاہ اپنے ہاتھوں میں ایک خوبصورت گلدستہ لیے، چہرے پر وہی نٹ کھٹ مسکراہٹ سجائے کھڑا تھا۔
"یہ کیا ڈراما ہے شاویز شاہ؟" انعم نے گھورتے ہوئے پوچھا۔
"ڈراما نہیں مس ریڈ چلی... صلح کا پیچ اپ!" شاویز نے ڈرامائی انداز میں سینے پر ہاتھ رکھا۔ "یہ کولڈ کافی خاص آپ کے لیے بنوائی ہے، اور ٹشو پیپر بھی ساتھ ہے تا کہ اگر اس بار بھی شرٹ پر گرے تو فوری صاف ہو سکے!"
"تم سدھر نہیں سکتے نا؟" انعم نے جوتی دکھانے والے موڈ میں اسے دیکھا، لیکن اس کی بات پر بے ساختہ اس کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
"سدھر گیا تو شاہویز شاہ کون کہے گا؟" شاہویز نے آنکھ مارتے ہوئے کہا۔ "ویسے... مانو یا نہ مانو، غصے میں تم اتنی بھی بری نہیں لگتیں!"
انعم کا چہرہ لمحے بھر کے لیے سرخ ہوا، لیکن اس نے فورا اپنی فائل سے منہ چھپا لیا۔ دونوں کی اس کھٹی میٹھی دشمنی کی شروعات ہو چکی تھی، جس کا انجام شاید دونوں ہی نہیں جانتے تھے۔
❖ ❖ ❖
0 Comments