Junon e shaa ep 4 full pdf download

Junoon-e-Ishq - Episode 4

جنونِ عشق

قسط 4: شاہ ہاؤس کا ڈنر اور سستی کافی کا حادثہ
شاہ ہاؤس کے عالیشان ڈائننگ ہال میں معمول کے مطابق شاہ خاندان کے تمام افراد رات کے کھانے کے لیے جمع تھے۔ کرسیاں کھینچنے اور برتنوں کی ہلکی آوازوں کے درمیان فضا میں ایک عجیب سی خاموشی اور تناؤ تھا۔
میز کے مرکزی حصے پر دادا جی براجمان تھے، جن کا رعب اور دبدبہ پورے شاہ خاندان پر قائم تھا۔ ان کے دائیں جانب زیان شاہ اور امیر بیٹھے تھے، جبکہ دوسری طرف نِگھت چچی اور باقی گھر والے موجود تھے۔
"سنا ہے آفس میں کوئی نئی پرسنل اسسٹنٹ ہائر کی گئی ہے، زیان؟" نِگھت چچی نے سلاد کا پیالہ آگے کرتے ہوئے طنز للکارا۔ "اور وہ بھی اتنی جلدی، بغیر کسی پراپر بیک گراؤنڈ چیک کے؟"
زیان نے کانٹے سے چکن کا ٹکڑا اٹھاتے ہوئے نہ نظریں اٹھائیں اور نہ ہی چہرے کے تاثرات بدلے۔ اس کی آواز میں وہی برفانی ٹھنڈک تھی۔
"میرا بزنس اور میری پرسنل لائف... دونوں کو کیسے ہینڈل کرنا ہے، مجھے اچھی طرح معلوم ہے چچی جان۔ مجھے کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں۔"
نِگھت چچی کا چہرہ فق ہو گیا، لیکن دادا جی کی موجودگی کی وجہ سے وہ خاموش رہ گئیں۔ دادا جی نے زیان کو ایک گہری، سنجیدہ نظر سے دیکھا، لیکن کچھ بولے بغیر کھانے میں مصروف ہو گئے۔
❖ ❖ ❖
دوسری طرف، اگلے دن شاہ گروپ آف انڈسٹریز کے کیفے ٹیریا کے باہر ایک الگ ہی طوفان اٹھنے والا تھا!
انعم اپنی نئی، چمکتی ہوئی وائٹ شرٹ پہنے، فائلیں ہاتھ میں سنبھالے تیزی سے راہداری سے گزر رہی تھی۔ وہ اپنے ہی دھن میں فون پر میسج ٹائپ کر رہی تھی کہ اچانک...
چھپاک!
سامنے سے آتا ہوا شاویز شاہ، جس کے ہاتھ میں ٹھنڈی کولڈ کافی کا بڑا کپ تھا، سیدھا انعم سے ٹکرایا!
کافی کا پورا کپ اچھلا اور سیدھا انعم کی برانڈ نیو وائٹ شرٹ پر جا گرا! گہرے براؤن رنگ کے داغ نے شرٹ کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا، اور اس کا فون بھی ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر جا گرا۔
"او ہیلو بھائی! بندوق سے گولی نکلی تھی یا تم گاڑی لے کے گھسے ہو?!" انعم نے اپنی بھیگی ہوئی شرٹ اور زمین پر پڑے فون کو دیکھ کر غصے سے چیختے ہوئے کہا۔
شاویز نے ہڑبڑا کر ہاتھ میں پکڑے خالی کپ کو دیکھا، پھر انعم کے غصے سے لال چہرے کو۔ لیکن شرمندہ ہونے کے بجائے اس کے چہرے پر ایک شرارتی مسکراہٹ پھیل گئی۔
"لِسن، مس ریڈ چلی! غلطی تمہاری تھی، تم اندھوں کی طرح فون میں گھسی ہوئی تھیں۔ تمہاری وجہ سے میری قیمتی کولڈ کافی نے شہادت نوش کی ہے!" شاہویز نے بڑی بے حیائی سے ہاتھ ہوا میں اٹھائے۔
"قیمتی کافی?!" انعم کی آنکھیں حیرت اور غصے سے پھیل گئیں۔ "میری تین ہزار کی برانڈڈ شرٹ کا ستیا ناس مار کے تمھیں اس دو سو روپے کی سستی کافی کا افسوس ہو رہا ہے?!"
"ایکسیوز می؟ دو سو روپے؟ یہ امپورٹڈ کافی تھی!" شاہویز نے انعم کی شرٹ کے داغ پر نظر ڈالی اور ہنستے ہوئے بولا، "ویسے شرٹ پر ڈیزائن برا نہیں لگ رہا... ماڈرن آرٹ لگ رہا ہے!"
انعم نے اپنے دانت پیسے۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سامنے کھڑے اس شاہویز شاہ کو کیفے ٹیریا کے ڈسٹ بن میں الٹا لٹکا دے!
"اگر دو منٹ میں میرے سامنے سے نہیں ہٹے نا شاہویز شاہ... تو بچی ہوئی کافی اور یہ فائلیں تمہارے سر پر ہوں گی!" انعم نے جوتی اتارنے کے انداز میں قدم آگے بڑھایا۔
"بائی صاحب! یہ لڑکی ہے یا چلتا پھرتا سرٹیفائیڈ طوفان؟" شاہویز نے مان ہی مان میں سوچا اور پیچھے ہٹتے ہوئے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ "ٹھیک ہے بابا، جا رہا ہوں! لیکن شرٹ کے ڈیزائن کے پیسے نہیں لوں گا!"
شاہویز وہاں سے مسکراتے ہوئے نکل گیا، جبکہ انعم وہیں کھڑی اسے گھورتی رہی۔ دونوں کی پہلی ملاقات میں کافی کم اور عزت زیادہ گرتی دکھائی دی تھی!
❖ ❖ ❖
نوٹ: کیا شاہویز اور انعم کی یہ نوک جھوک آگے چل کر کوئی نیا موڑ لے گی؟ اور شاہ ہاؤس کے ڈنر کا تناؤ زیان اور حورین کی زندگی پر کیا اثر ڈالے گا؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں! ☕🔥

Post a Comment

0 Comments