Ishqe imtihan..
(Ek Khamosh Mohabbat Ka Safar)
Written By:
RAFIA
Genre: Social Romantic Novel
Setting: Peshawar, Pakistan
Year: 2026
### **ناول**
#### **قسط نمبر 1**
پشاور کی اس دوپہر میں، جب دھوپ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ صحن میں اتری تھی، گھر میں ایک عجیب سی چہل پہل تھی۔ مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا، اور علیزے، جو تب محض چھٹی جماعت کی معصوم سی بچی تھی، ایک کونے میں کھڑی سب کی نظروں سے بچی ہوئی تھی۔ تبھی دروازے سے ایک سایہ اندر داخل ہوا۔
وہ شمیر تھا۔ سفید شلوار قمیض میں ملبوس، جس کے چہرے پر ایک ایسی سکون بھری مسکراہٹ تھی جو شاید ہی کسی اور کے پاس ہو۔ علیزے کی نظر جیسے اس پر جم سی گئی۔ اس نے محسوس کیا کہ وقت کی رفتار تھم گئی ہے۔ شمیر کی نظر جب علیزے پر پڑی، تو اس نے کوئی سوال نہیں کیا، کوئی شکایت نہیں کی، بس ایک ہلکی سی، دل کو چھو لینے والی مسکراہٹ بکھری اور آگے بڑھ گیا۔ اس لمحے، علیزے کے معصوم سے دل میں ایک نمونہ بن گیا—ایک ایسا نام جو اس کی ہر دعا کا حصہ بننے والا تھا۔
وقت گزرتا رہا، علیزے بڑی ہوتی گئی، دسویں جماعت کی سرحد تک پہنچتے پہنچتے اس کا دل شمیر کی چاہت میں اور بھی گہرا ہوتا گیا۔ پھر ایک روز، جب وہ لوگ شمیر کے گھر گئے، تو علیزے نے پرانی بچپن کی شرارت میں ایک گلاس پانی اٹھایا اور شمیر پر انڈیل دیا۔ شمیر پوری طرح بھیگ گیا۔ علیزے کو لگا اب قیامت آئے گی، مگر شمیر نے صرف اپنی آنکھیں صاف کیں اور کھل کر ہنس دیا۔ علیزے وہاں سے تو بھاگ آئی، مگر دل میں ایک خط لکھ کر ان کے ہاتھ میں تھما دیا—جس میں صرف ایک لفظ تھا: *"Sorry"*.
#### **قسط نمبر 2**
اُس خط نے کہانی کا رخ ہی بدل دیا۔ شمیر کو لگا علیزے نے اظہارِ محبت کر دیا ہے۔ کچھ دنوں بعد، ٹک ٹاک پر شمیر کی ریکویسٹ آئی۔ علیزے نے حیرت اور خوشی کے ساتھ اسے قبول کر لیا۔
باتیں کزن ہونے کے ناطے شروع ہوئیں، مگر وقت کے ساتھ ان میں ایک گہری کشش پیدا ہو گئی۔ ایک رات، شمیر نے بہت احتیاط سے پوچھا، *"علیزے، کیا تم مائنڈ نہیں کرو گی اگر میں ایک سوال پوچھوں؟ تم... تم کسی کو پسند کرتی ہو؟"*
علیزے کی دھڑکنیں تیز ہو گئی تھیں۔ شرم اور ہیجان کے عالم میں، ان دونوں نے ایک دوسرے پر اعتماد کیا اور دل کے سارے راز کھول دیے۔ وہ دو دن علیزے کی زندگی کے سب سے حسین دن تھے، جہاں شمیر نے اپنے گھر کی مالی پریشانیوں اور ذمہ داریوں کا ذکر کیا، اور علیزے نے اسے یقین دلایا کہ حالات کچھ بھی ہوں، وہ اس کے ساتھ ہے۔
مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایک روز، علیزے کی بہن نے ان کا موبائل دیکھ لیا۔ کمرے میں چیخ و پکار مچ گئی، علیزے کو خوب ڈانٹا گیا، مارا گیا اور موبائل ضبط کر لیا گیا۔ سب سے زیادہ دردناک پل تب آیا جب علیزے کی بہن نے شمیر کو میسج بھیج دیا: *"ہم تو بس مذاق کر رہے تھے، سیریسلی مت لو۔"*
اُس پار، پشاور کے اس گھر میں، شمیر نے جب وہ میسج پڑھا، تو اس کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ اسے لگا کہ علیزے نے اس کے جذبات سے کھیل کیا ہے۔ علیزے یہاں اپنی بے بسی کے آنسو رو رہی تھی، اور شمیر وہاں اس خاموشی میں گھٹ رہا تھا جو اس میسج نے پیدا کر دی تھی۔ ایک معصوم سی محبت، گھر والوں کی پابندیوں اور ایک غلط فہمی کی نذر ہو چکی تھی۔
**Writer: Rafia**
https://creatorx22.blogspot.com/2026/07/blog-post.html
Next ep k ly link p click kre

0 Comments