جنونِ عشق
قسط 1: ایک طوفانی رات اور وہ سلور لاکٹ
تیز بارش کی بوندیں گاڑی کی ونڈ اسکرین پر زور زور سے ٹکرا رہی تھیں۔ رات کے دو بج رہے تھے اور شہر کی سڑک بالکل ویران اور سنسان تھی۔
زیان شاہ اپنی بلیک SUV چلاتے ہوئے فون پر اپنے بھائی اور رائٹ ہینڈ، امیر سے بات کر رہا تھا۔ اس کے چہرے پر تھکن اور غصے کے آثار صاف نظر آ رہے تھے۔
"امیر، مجھے کل صبح تک اس ٹیکسٹائل مل ڈیل کی ہر ایک ڈیٹیل چاہیے۔ فاروق چاچا جو گیم کھیل رہے ہیں، میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں،" زیان نے سرد آواز میں کہا۔
"ٹھیک ہے زیان، لیکن تم اس وقت کہاں ہو؟ بارش بہت تیز ہے، پہلے گھر پہنچو،" امیر نے دوسری طرف سے پریشانی میں کہا۔
"میں بس پہنچنے ہی—"
زیان کی بات ادھوری رہ گئی! اچانک گاڑی کی ہیڈ لائٹس کی روشنی میں ایک وجود سڑک کے درمیان تیزی سے بھاگتا ہوا آیا۔
❖ ❖ ❖
سکریچ! زیان نے ہڑبڑا کر ایمرجنسی بریکس لگائیں۔ گاڑی جھٹکے سے رکی، بالکل اس وجود کے چند انچ کے فاصلے پر!
زیان نے غصے سے اسٹیئرنگ وہیل پر ہاتھ مارا۔ اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور تیز بارش میں باہر نکلا۔ اس کے بلیک سوٹ پر پانی کی بوندیں گرنے لگی تھیں۔
"دماغ خراب ہے تمہارا؟! سڑک پر خودکشی کرنے کا ارادہ ہے؟!" زیان نے ڈانٹتے ہوئے کہا۔
لیکن جب وہ اس وجود کے قریب پہنچا، تو اس کی آواز اچانک حلق میں ہی اٹک گئی۔ وہ کوئی آدمی نہیں... ایک لڑکی تھی۔ بھیگے ہوئے بال، کانپتا ہوا وجود، اور بیج رنگ کا کرتا جو بارش میں پورا بھیگ چکا تھا۔ اس نے تیزی سے اپنا سر اٹھایا—اور زیان کی سرمئی (Grey) آنکھیں، اس لڑکی کی گہری بھوری آنکھوں سے ٹکرائیں۔
وہ حورین تھی۔
حورین کی آنکھوں میں کوئی خوف نہیں تھا، بلکہ وہاں ایک ایسی نفرت اور جنون تھا جو زیان نے آج تک کسی کی آنکھوں میں نہیں دیکھا تھا۔
"آپ... زیان شاہ ہیں نا؟" حورین نے کانپتی ہوئی، لیکن ایک بے حد مضبوط آواز میں پوچھا۔
"تم مجھے جانتی ہو؟" زیان نے اپنی آنکھیں چھوٹی کیں۔
حورین نے ایک ہلکی، دردناک مسکراہٹ دی۔ اس نے اپنا ہاتھ آگے کیا، جس میں ایک چھوٹا سا چاندی (Silver) کا لاکٹ تھا۔ اس نے وہ لاکٹ زیان کے ہاتھ پر رکھا اور اس کی انگلیوں کو خود ہی بند کر دیا۔
"اسے اپنے پاس رکھیے شاہ صاحب،" حورین نے اس کے بالکل قریب ہو کر، اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ "کیونکہ جب میں دوبارہ آپ کے سامنے آؤں گی... تو آپ سے آپ کی ہر چیز چھین لوں گی۔"
زیان اس سے پہلے کہ کچھ سمجھ پاتا یا اسے پکڑتا، حورین نے تیزی سے پیچھے ہٹ کر اندھیرے اور بارش میں دوڑ لگا دی!
زیان وہاں ششدر کھڑا رہ گیا۔ اس نے اپنا ہاتھ کھولا... ہاتھ میں وہ سلور لاکٹ تھا، جسے کھولنے پر اندر ایک پرانی تصویر اور ایک خاص تاریخ لکھی ہوئی تھی۔
اس تاریخ کو دیکھتے ہی زیان شاہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا!
❖ ❖ ❖
0 Comments