Junon_e_shaa ep 1 to 10

جنونِ شاہ - قسط 1 تا 10

جنونِ شاہ

حصہ اول (قسط 1 تا 10)

قسط 1: سرحدِ جنون

پہاڑوں کے پیچھے سے سورج کی آخری سنہری کرنیں ڈوب رہی تھیں اور وادی میں ہلکی ہلکی خنکی محسوس ہونے لگی تھی۔ گاڑی جیسے ہی کچے راستے سے گزر کر اونچی حویلی کے مرکزی گیٹ کے سامنے رکی، منال نے چہرے سے زلفیں ہٹاتے ہوئے شیشے سے باہر دیکھا۔ ایک عظیم الشان، قدیم طرز کی حویلی جس کے بھاری لکڑی کے دروازے اور اونچی فصیلیں کسی قلعے کا منظر پیش کر رہی تھیں۔

"ہم پہنچ گئے بی بی!" ڈرائیور نے گاڑی کا انجن بند کرتے ہوئے مؤدبانہ انداز میں کہا۔

منال نے ایک گہرا سانس لیا اور باہر نکل آئی۔ صحن کے وسط میں چنار کے درخت کے نیچے کچھ لوگ کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ اور پھر... اس کی نظر اس پر پڑی۔ کالے رنگ کا پشتون لباس، کندھوں پر سیاہ و سفید پشمینہ شال اوڑھے، اور ہاتھ میں آبنوس کی تسبیح لیے—Shameer Khan۔

"آپ کا استقبال ہے، بی بی،" Shameer نے بھاری اور رعب دار آواز میں کہا، "لیکن شاید آپ کو بتانا بھول گئے کہ یہ سرحد ہے... اور یہاں ہر چیز، ہر قدم، اصولوں کے تحت اٹھایا جاتا ہے۔"

منال نے نڈر انداز میں جواب دیا، "اور اگر کوئی ان اصولوں کو ماننے سے انکار کر دے تو؟"

Shameer نے ایک قدم نزدیک آ کر کہا، "تو پھر خان کو اچھے سے آتا ہے کہ کسی کو اصول سکھانے کیسے ہیں... اور اپنی حد میں رکھنا کیسے ہے۔"

قسط 2: شعلہ اور شبنم

Shameer کی رعب دار آواز ابھی بھی منال کے ذہن میں گردش کر رہی تھی۔ وہ بالائی منزل کے کشادہ کمرے میں چلی آئی۔ رات کو نیند نہ آنے پر وہ شال لپیٹ کر حویلی کی کھلی چھت پر آ پہنچی۔

چھت کے کونے میں Shameer Khan کھڑا تھا، ہاتھ میں سگریٹ کا دھواں فضا میں چھوڑتا ہوا۔ "رات کے اس پہر، بغیر کسی اجازت کے یہاں آنا... کیا آپ کے شہر میں یہ عام بات ہے، بی بی؟"

منال نے سنبھلتے ہوئے کہا، "مجھے نیند نہیں آ رہی تھی، خان صاحب! اور میں قید نہیں ہوں یہاں۔"

Shameer نے قریب آ کر اس کی آنکھوں میں دیکھا، "قید نہیں ہیں، لیکن یہ جگہ محفوظ بھی نہیں ہے۔ آپ کو سنبھل کر رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ آپ شعلہ ہیں... اور یہ وادی بارود!"

قسط 3: حویلی کے قواعد

صبح سویرے منال نیچے دالان میں آئی تو تمام ملازمین مؤدب کھڑے تھے اور Shameer Khan کرسی پر براجمان فائلوں کا جائزہ لے رہا تھا۔ منال نے بلا خوف گفتگو کی شروعات کی لیکن Shameer نے اسے حویلی کے آداب اور اصول یاد دلائے۔

اسی اثنا میں بڑی بی بی (دادی) نے منال کو اپنے پاس بلایا اور پیار سے سمجھایا کہ Shameer کا جلال وادی کی حفاظت کی ضمانت ہے۔ منال نے دیکھا کہ Shameer اپنے سیاہ گھوڑے پر سوار ہو کر وادی کے دورے پر نکل رہا تھا۔ اس کے رعب کے پیچھے ایک عجیب کشش تھی جو منال کو الجھا رہی تھی۔

قسط 4: وادی کے خطرات

دوپہر کو منال حویلی سے ذرا دور ندی کے کنارے چلی گئی۔ وادی کا پرسکون ماحول یکایک اس وقت خوفناک ہو گیا جب دو مسلح اجنبی افراد نے اس کا راستہ روک لیا۔ منال نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی لیکن اس کا پاؤں پھسل گیا۔

اسی لمحے فضا میں گولی کی آواز گونجی! Shameer Khan طوفان کی طرح اپنے گھوڑے پر وہاں پہنچا۔ اس کے ہاتھ میں بندوق اور آنکھوں میں بلا کا غصہ تھا۔ اس کی ایک ہی دہاڑ سے وہ حملہ آور وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

قسط 5: جنون اور تحفظ

Shameer نے گھوڑے سے اتر کر منال کا بازو تھام لیا۔ اس کی سرمئی آنکھوں میں غصے کے ساتھ ایک ان دیکھا خوف تھا۔ "اگر مجھے پہنچنے میں ایک منٹ کی دیر ہو جاتی تو؟"

منال کو پہلی بار اس کے غصے میں اپنے لیے فکر نظر آئی۔ Shameer نے اپنی سیاہ پشمینہ شال اتاری اور نرمی سے منال کے وجود پر لپیٹ دی۔ "اب سے تم حویلی سے باہر صرف میرے ساتھ نکلو گی... کیونکہ Shameer Khan کی امانت پر کوئی میلی نظر ڈالے، یہ مجھے منظور نہیں۔"

قسط 6: خاموش محبت

اس واقعے کے بعد حویلی کا ماحول بدل گیا۔ منال کے دل میں Shameer کے لیے نفرت کی جگہ ایک عجیب احترام نے لے لی تھی۔ شام کو جب Shameer حویلی واپس لوٹا تو منال نے خود اپنے ہاتھوں سے اس کے لیے چائے بنا کر پیش کی۔

Shameer نے کپ تھامتے ہوئے منال کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں کی سختی اب نرمی میں بدل رہی تھی۔ "شہر کی بی بی اب حویلی کے رنگ میں ڈھل رہی ہے؟" اس نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

قسط 7: مخالفین کی سازش

وادی کے مخالف قبیلے کے سردار نے Shameer کی بڑھتی طاقت اور حویلی میں منال کی موجودگی کو ہدف بنانے کا منصوبہ بنایا۔ حویلی پر رات کے وقت اچانک گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔

Shameer نے فوراً منال کو اپنے حصار میں لیا اور اسے محفوظ کمرے میں پہنچایا۔ گولیوں کی گونج میں منال نے Shameer کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے رکھا۔ Shameer نے اسے تسلی دی، "جب تک خان زندہ ہے، تمہیں کوئی چھو بھی نہیں سکتا۔"

قسط 8: خان کا بدلہ

اگلی صبح Shameer نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر دشمنوں کو ایسا سبق سکھایا کہ پوری وادی لرز اٹھی۔ وہ جب حویلی واپس لوٹا تو اس کے ہاتھ پر معمولی زخم تھا لیکن چہرے پر وہی پرسکون فتح کی چمک تھی۔

منال نے بغیر کچھ کہے اس کے زخم پر پٹی باندھی۔ دونوں کی نظریں ملیں تو الفاظ کی ضرورت نہ رہی، دونوں کے دلوں میں ایک ان دیکھا بندھن قائم ہو چکا تھا۔

قسط 9: اقرارِ جنون

بارش کی ایک ٹھنڈی رات میں Shameer نے منال کو حویلی کے اونچے برج پر بلایا۔ وادی پر بادل چھائے ہوئے تھے اور ماحول میں سحر انگیز خاموشی تھی۔

Shameer نے منال کے سامنے کھڑے ہو کر کہا، "تم نے اس وادی کے اصول بدل دیے ہیں، منال! جو دل کبھی پتھر تھا، اب صرف تمہارے لیے دھڑکتا ہے۔" منال نے مسکرا کر اپنی آنکھیں جھکا لیں، اس کا خاموش اقرار Shameer کے جنون کو اور بڑھا گیا۔

قسط 10: نیا موڑ

حویلی میں خوشیوں کا ماحول تھا اور بڑی بی بی نے دونوں کے رشتے کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ لیکن خوشیوں کے اس سماں میں شہر سے آنے والے ایک پرانے خط نے منال کو سوچ میں ڈال دیا، جس میں اس کے ماضی کا ایک راز چھپا ہوا تھا۔

Shameer نے اس کے چہرے پر تشویش دیکھی اور اس کا ہاتھ تھام کر کہا، "چاہے کچھ بھی ہو جائے، تم صرف Shameer Khan کی ہو۔"

Post a Comment

0 Comments