Junon e shah ep 3 full pdf download

Junoon-e-Ishq - Episode 3

جنونِ عشق

قسط 3: کیبن میں آمنا سامنا اور انتقام کا پہلا قدم
شاہ گروپ آف انڈسٹریز کی بلند و بالا عمارت کی ٹاپ فلور پر زیان شاہ کا کیبن واقع تھا۔ بے حد عالی شان، ڈارک تھیمڈ آفس جہاں ہر چیز زیان کی ڈسپلن اور روبدار شخصیت کا عکس تھی۔
زیان اپنی ریوالونگ لیدر چیئر پر بیٹھا ونڈو سے باہر دیکھ رہا تھا۔ اس کے دائیں ہاتھ کی انگلیوں میں وہی سلور لاکٹ گھوم رہا تھا جو اس بارش والی رات اس پراسرار لڑکی نے اس کے ہاتھ پر رکھا تھا۔
تک... تک... (دستک)
"کم ان،" زیان نے اپنی گھمبیر، ٹھنڈی آواز میں کہا۔
امیر اندر داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں کچھ فائلیں تھیں اور چہرے پر تجسس۔ "زیان... شارٹ لسٹڈ کی گئی تینوں PAs باہر ویٹ کر رہی ہیں۔ پہلی کینڈیڈیٹ کو اندر بھیجوں؟"
زیان نے چیئر گھمائی۔ اس کی سرمئی (Grey) آنکھوں میں ایک پراسرار چمک تھی۔
"صرف ایک ہی کو اندر بھیجو امیر... حورین عثمان کو۔"
امیر نے گہرا سانس لیا، سر جھکایا اور باہر نکل گیا۔
❖ ❖ ❖
چند لمحوں بعد، کیبن کا بھاری شیشے کا دروازہ دوبارہ کھلا۔
ایک ہلکے جامنی (Purple) رنگ کے سادہ سے سوٹ میں حورین اندر داخل ہوئی۔ اس کے بھیگے ہوئے بال اب سلیقے سے باندھے ہوئے تھے۔ چہرے پر بے حد معصومیت اور سنجیدگی تھی—جیسے اس طوفانی رات والا جنون کبھی تھا ہی نہیں۔
"گڈ مارننگ، مسٹر زیان شاہ،" حورین نے نیچے نظریں جھکا کر بے حد ادب سے کہا۔
زیان دھیرے سے اپنی چیئر سے اٹھا۔ اس کی لمبی، روپ دار شخصیت حورین کے سامنے آ کر رکی۔ دونوں کے درمیان صرف ایک شیشے کی ٹیبل کا فاصلہ تھا اور زیان نے اپنے ہاتھ میں پکڑا سلور لاکٹ ٹیبل پر رکھا۔ ٹھک!
"گڈ مارننگ، مس حورین... مجھے لگتا ہے پرسوں رات ہم نے ایک دوسرے کو 'مسٹر شاہ' کہہ کر ایڈریس نہیں کیا تھا؟" زیان نے جھک کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔
حورین نے لاکٹ کو دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک سیکنڈ کے لیے بھی گھبراہٹ نہیں آئی۔ اس نے اپنی گہری بھوری آنکھیں اٹھا کر سیدھا زیان کی آنکھوں میں دیکھا۔
"میں نہیں سمجھی آپ کیا کہہ رہے ہیں، سر۔ میں یہاں پرسنل اسسٹنٹ کے انٹرویو کے لیے آئی ہوں،" حورین نے بالکل سچائی سے کہا۔
"اچھا؟ تو تم کہنا چاہتی ہو کہ اس رات ۲ بجے بارش میں میری گاڑی کے سامنے آنے والی، مجھے کھلم کھلا دھمکی دینے والی لڑکی تم نہیں تھیں؟" زیان نے ایک قدم مزید آگے بڑھایا۔
"آپ کو شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہے، سر۔ میں اس رات اپنے گھر پر تھی،" حورین نے بالکل نارمل لہجے میں جواب دیا۔ اس کی معصومیت اتنی پرفیکٹ تھی کہ کوئی بھی دھوکا کھا جاتا۔
لیکن زیان شاہ کوئی عام انسان نہیں تھا۔
زیان نے ناگہانی طور پر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور تیزی سے حورین کی کلائی (Wrist) کو اپنی سخت پکڑ میں لے لیا! پکڑ اتنی مضبوط تھی کہ حورین کی سانس ایک پل کو اٹک گئی، لیکن اس نے درد کا ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا۔
"شطرنج کی چال چلنے کا شوق ہے نہ تمہیں، حورین عثمان؟" زیان نے اس کے بالکل قریب ہو کر ٹھنڈی آواز میں کہا۔ "لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا... اس بورڈ کے سارے مہرے اور یہ پورا کھیل میرا ہے۔ تم صرف ایک شکار ہو جو خود چل کر جال میں آئی ہو۔"
حورین نے اپنی کلائی چھڑوانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اس نے ایک گہری سانس لی اور زیان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ایک ہلکی سی تلخ مسکراہٹ دی۔
"شکاری جب شکار میں اتنا بزی ہو جائے شاہ صاحب... تو اکثر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ جال کس کے لیے بچھایا گیا تھا۔"
زیان نے جھٹکے سے اس کی کلائی چھوڑی۔ اس کی آنکھوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔
"یو آر ہائرڈ (You are hired)، مس حورین! آج سے تم میری پرسنل اسسٹنٹ ہو۔ ہر وقت، ہر میٹنگ میں... تم میری نظروں کے سامنے رہو گی۔"
"تھینک یو، سر،" حورین نے سر جھکایا۔
جب وہ کیبن سے باہر نکلنے کے لیے مڑی، تو اس کے لبوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔ پہلا قدم کامیاب ہو چکا تھا۔ وہ زیان شاہ کی دنیا میں داخل ہو چکی تھی!
❖ ❖ ❖
نوٹ: کیا حورین زیان شاہ کے جال میں پھنس جائے گی یا زیان شاہ خود اپنے ہی کھیل کا شکار ہوگا؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں! 🖤🥀

Post a Comment

0 Comments